نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

برگ نیم ڈینگی بخارمیں انتہائی موثر ہے :حکیم قاضی ایم اے خالد

 احتیاطی تدابیراختیارکر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے:

کونسل آف ہربل فزیشنز

 ڈینگی مچھروں سے محفوظ رہنے کیلئے کا فوراور لیمن گراس گھروں میں مختلف جگہوں پر رکھیں


لاہور 06 اکتوبر: طب یونانی اور ہربل سسٹم آف میڈیسن کی جدید تحقیقات کے حوالے سے ڈینگی بخار میں نیم کے پتوں کے انتہائی مفید نتائج ملے ہیں۔نیم کے پتوں کے استعمال سے ڈینگی بخار اترنے کے ساتھ ساتھ پلیٹ لٹس اور وائٹ بلڈ سیلز بھی نارمل ہو جاتے ہیں اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے'' ڈینگی بخار اور جدید طبی تحقیقات'' کے حوالے سے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیں۔ انہوں نے کہا کہ نیم اینٹی بیکٹریل'اینٹی فنگل اور اینٹی وائرل خصوصیات کاہزاروں سال قدیم درخت ہے۔برگ نیم نہ صرف ڈینگی فیور بلکہ ہر قسم کے موسمی اور ملیریا بخار'برونکائٹس 'گلے کی سوزش اور میں مفید ہے بلکہ اس سے وائرل ہیپاٹائٹس کی علامات بھی کم کرنے میں مدد ملی ہے اس کے علاہ ایچ آئی وی ایڈز اوردیگر وائرل ڈیزیز میں بھی موثر پایا گیا ہے۔ نیم کے دس گرام تازہ پتوں کو ایک کپ پانی میںگھوٹ کر یابلینڈر میں بلینڈ کر ڈینگی فیور میں مبتلا افراد کے علاوہ حفظ صحت کے طور پر بھی استعمال کئے جا سکتے ہے اس کے استعمال سے پلیٹ لٹس اور وائٹ بلڈ سیلز نارمل ہو جائیں گے ۔علاوہ ازیںکرنجوہ 'افسنتین اور چرائتہ ہمورزن باریک سفوف بنا لیں اور برگ تلسی کے قہوہ کے ہمرا ہ صبح و شام خالی پیٹ ایک چمچ ڈینگی بخار میں فائدہ مند ہیں۔قدیم قرابادینی مرکب حب شفا دو عددشربت دینار کے ہمراہ صبح و شام کھانے کے بعد انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں حکیم خالد نے کہا کہ عوام الناس کو ڈینگی فیور سے گھبرانا نہیں چاہئے جدید طبی تحقیقات کے مطابق عام ڈینگی فیور خطرناک نہیں اور کم و بیش ایک سے دو ہفتے میں مناسب دیکھ بھال وعلاج سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ڈینگی فیور کے پچیدہ کیسزیعنی ڈینگی ہیمرجک فیور اور ڈینگی شاک فیور کی شرح ڈینگی پازیٹو مریضوں میںتین سے پانچ فیصد تک ہے تاہم خوف و ہراس کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیربھی انتہائی ضروری ہیںڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے' وٹامن بی اور وٹامن سی پر مشتمل خوراک کا استعمال کریں۔چاول مونگ کی دال کھچڑ ی 'شلجم 'چقندر'گاجر'بند گوبھی 'لیموںپپیتہ 'انگور'انار'سیب 'کنّو اورمیٹھااس مرض میں مفید غذا ہے۔یونانی میڈیکل آفیسر نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا احتیاطی تدابیر کے طور پر سرکہ اور پیاز کا استعمال کر کے ڈینگی وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ کا فور گھر میں مختلف جگہوں پر رکھیں نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کر کے جسم پر لگائیں مچھر قریب نہیں آئیں گے۔ اس کے علاوہ ڈینگی مچھروںسے بچاؤ کیلئے لیمن گراس اور تلسی کے پودوں کو گھروں میں رکھا جائے ۔یہ پودے سنگاپورسمیت دیگر ممالک میں ڈینگی وائرس سے بچا ؤکے طور پرموثر ثابت ہوچکے ہیں۔#
٭…٭…٭
GMAIL:QAZIMAKHALID
Twitter:QAZIMAKHALID
Cell:+92 03334222129

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

روزہ کرونا وائرس سے بچاؤ میں فائدہ مند ہے

روزہ قوت مدافعت میں اضافہ کرکے امراض سے بچاؤ کا باعث بنتا ہے تحریر: حکیم قاضی ایم اے خالد دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میںبغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین نے متعدد کلینیکل ٹرائلز کے بعد سائنسی طور پر تسلیم کیا ہے۔  روزہ رکھنے سے نہ صرف مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے بلکہ بحیثیت مجموعی قوتِ مدافعت کے اندر زبردست اضافہ ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کے جسم میں بیماریوں سے بچنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجاتی ہے اور جو بیماریاں جسم کے اندر موجود ہوتی ہیں ان سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جا سکتاہے۔ ہمارے جسم میں موجود قوتِ مدافعت کا کام جسم کو جراثیم اور ہر قسم کے وائرسزسے بچانا ہے جب بھی جسم پر جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں یا کوئی بیماری جسم میں داخل ہوتی ہے تو جسم کے اندر موجود امیون سسٹم متحرک ہو جاتا ہے۔ سینکڑوں قسم کے دفاعی خلیات ہیں جو اس مدافعتی نظام میں حصہ لیتے ہیں اور روزے ان تمام مدافعتی مورچوں کو مضبوط ک...

ہر سال 13لاکھ 80ہزار خواتین بریسٹ کینسر میں مبتلاہو رہی ہیں

السی بریسٹ کینسر میں انتہائی مفید ہے : حکیم خالد لاہور (آن لائن۔ 10 اکتوبر2019ء) عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال بریسٹ کینسر کے تقریبا 13لاکھ 80ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں جبکہ ہر سال اس مرض میں مبتلا تقریباً 4لاکھ 58ہزار خواتین کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں بریسٹ کینسر میں مبتلا خواتین کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے جن میں سے ایک بڑا حصہ نوجوان خواتین پر مشتمل ہے۔ ہر سال پاکستان میں بریسٹ کینسر میں مبتلا تقریباً 95ہزار نئے مریضوں کی تشخیص ہوتی ہے۔اس ضمن میں معروف ہربلسٹ حکیم قاضی ایم اے خالدنے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مرض کا شعور بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ اگر اسکا گھریلو علاج بھی بتا دیا جائے تو عوام الناس اس مرض کی انتہائی پچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں۔السی پاکستانی دیہاتیوں کی عام غذا ہے خاص طور پر موسم سرما میں اس کی پنیاں بنا کر کھائی جاتی ہیں اور یہ غذا کھانے والی دیہاتی خواتین بریسٹ کینسر سے محفوظ رہتی ہیں السی کے بیج کو انگریزی زبان میں Flaxseedsکہا جاتا ہے جوکہ ہزاروں سال سے طب یونانی مشرقی اسلامی طریق علاج میں استعمال کئے جارہے ہیں۔ السی کے بیج...

ہلدی آرتھرائٹس میں انتہائی فائدہ مند ہے:حکیم خالد

مردوں کی بجائے عورتوں میں آرتھرائٹس کی شرح زیادہ ہے لاہور( ہیلتھ لائن)مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں آرتھرائٹس کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے جسکی وجہ ورزش نہ کرنا ' ذہنی دباؤ اور غیرمتوازن غذا کا زیادہ استعمال ہے آرتھرائٹس کے اسباب میںمیٹا بولک نظام کی خرابی، بیکٹریل اور وائرل انفیکشن کے بالواسطہ یا بلا واسطہ اثرات اور کیلشیئم کی کمی نیز یورک ایسڈ کی زیادتی شامل ہیں۔ جوڑوں میں درد، سوجن، ہڈیوںاور جوڑوں کا اکڑا ؤ'آرتھرائٹس کی علامات ہیں۔ اس مرض میں جوڑوں کی اندرونی جھلیاں متاثر ہوتی ہیںآرتھرائٹس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو متاثرہ فرد معذور بھی ہو سکتا ہے۔جوڑوں کے درد و ورم کے علاج میں فزیوتھراپی، وزن میں کمی، ورزش،متوازن غذا، ٹکور کرنا، درد و ورم دور کرنے والی ادویہ کھانا، روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا، مچھلی زیادہ کھانا، سرخ گوشت اور تلی ہوئی اشیا سے پرہیز شامل ہیں آرتھرائٹس کی متعدد اقسام ہیں جدید طبی تحقیقات کے مطابق ہلدی ایک بہترین ہربل پین کلرہے ہلدی کا استعمال آرتھرائٹس 'جوڑوں کے درد اور سوجن میں کمی لاتا ہے۔مجربات حکیم قاضی ایم اے خالد کے مطابق آرتھرائ...